Font by Mehr Nastaliq Web

یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے فرش و عرش افق افق

نظمی مارہروی

یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے فرش و عرش افق افق

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے فرش و عرش افق افق

    یہ کس کے نور سے چمک دمک رہے شفق شفق

    یہ کس نے مردہ قوم کو بشارتِ حیات دی

    یہ کس نے تر کیا ہے زندگی کا خشک تر حلق

    وہ مصطفیٰ وہ مجتبیٰ وہی حبیبِ کبریا

    کہ جن کے اتباع کا رسولوں کو ملا سبق

    انہی کے نور کی شناخت ہیں زمین و آسماں

    انہی کی ذات کا ظہور مہر و ماہ فلق فلق

    خدائی ساری نظمیؔ ان کے نام پر فدا ہوئی

    انہی کے در کی بھیک پر ہے منحصر خلق خلق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے