Font by Mehr Nastaliq Web

منتظر دونوں عالم تھے جن کے لیے آئے وہ اور پھیلی خوشی ہر طرف

نظمی مارہروی

منتظر دونوں عالم تھے جن کے لیے آئے وہ اور پھیلی خوشی ہر طرف

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    منتظر دونوں عالم تھے جن کے لیے آئے وہ اور پھیلی خوشی ہر طرف

    ان کے آتے ہی ظلمت کے بادل چھٹے چھائی توحید کی روشنی ہر طرف

    آئے جبریل نوری سواری لیے لامکاں کی طرف مصطفیٰ چل دیے

    فرش سے عرش تک نور ہی نور تھا دونوں عالم میں تھی سر خوشی ہر طرف

    نور کیسا وہ غارِ حرا سے چلا آج تک جس کی نورانیت کم نہیں

    کتنے سینوں میں وہ نور محفوظ ہے چھن رہی ہے وہی روشنی ہر طرف

    تاجدارِ مدینہ چلے بدر کو تین سو تیرہ نوری سپاہی لیے

    اترے جبریل ملکوتی لشکر لیے کھل اٹھی فتح کی چاندنی ہر طرف

    جب احد میں مرے آقا زخمی ہوئے کھلبلی مچ گئی سارے اصحاب میں

    چاند طیبہ کا پل بھر کو کیا چھپ گیا چھا گئی تھی فضا ماتمی ہر طرف

    یہ لعابِ نبی کا ہی اعجاز تھا دکھتی آنکھیں علی کی بھلی ہوگئیں

    بابِ خیبر اکھاڑا بچشمِ زدن گونج اٹھا نعرۂ حیدری ہر طرف

    سبز گنبد کی رعنائیاں کیا کہوں منبعِ نور ہے قبلۂ اہلِ دل

    یاں وہ آرام فرما ہیں جن کے لیے رب نے تخلیق کی زندگی ہر طرف

    عرسِ سید میاں کا وہ شہرہ ہوا اس قدر رعب برکاتیت کا پڑا

    سارے دشمن پریشان و حیران ہیں ان کے حلقوں میں ہے کھلبلی ہر طرف

    نظمیؔ تیرے لیے نعت نعمت بنی یہ بھی میمِ محمد کا اعجاز ہے

    نور و نکہت کا حامل ہے تیرا قلم کر رہا ہے جو ذکرِ نبی ہر طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے