اے خدا ہند میں رکھنا مرا ایماں محفوظ
اے خدا ہند میں رکھنا مرا ایماں محفوظ
خار کے بیچ ہو جیسے گلِ خنداں محفوظ
اس کی آیات میں تحریف نہیں ہو سکتی
رب کا وعدہ ہے رہے گا یوں ہی قرآں محفوظ
آج کے دور میں اچھائی کی باتیں صاحب
ہے غنیمت کہ رہے آپ کا ایماں محفوظ
التجا رب سے یہی ہے کہ رہیں محشر تک
سارے آلام و مصائب سے مسلماں محفوظ
جب تلک آئے نہ اچھائی برائی کی تمیز
کیسے رہ سکتا ہے انسان کا ایماں محفوظ
رب کی حکمت کے بنا ہل نہیں سکتا پتّا
اس کی مرضی تھی رہے یوسفِ کنعاں محفوظ
نعت کے بارے میں پوچھا تو یہ نظمیؔ نے کہا
اس سے رہتی ہے مری جاں مرا ایماں محفوظ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.