Font by Mehr Nastaliq Web

کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقط

نظمی مارہروی

کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقط

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقط

    باتھوں میں حشر تک رہے دامنِ مصطفیٰ فقط

    اپنے کرم سے اے خدا عشقِ رسول کر عطا

    آخری دم زباں پہ ہو صلِ علیٰ صدا فقط

    طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں

    دفن ہوں ان کے شہر میں ہے یہی التجا فقط

    یوں تو ہر اک نبی ولی رب کے حضور ہے شفیع

    شافعِ روزِ حشر کا ہم کو ہے آسرا فقط

    معراج کا شرف ملا یوں تو ہر اک رسول کو

    عرش سے آگے جا سکے احمدِ مجتبیٰ فقط

    نورِ محمد سے ہی کون و مکاں کو ہے ثبات

    مطلوبِ کائنات ہے محبوبِ کبریا فقط

    دنیا کی ساری نعمتیں میری نظر میں ہیچ ہوں

    رکھنے کو سر پہ گر ملیں نعلینِ مصطفیٰ فقط

    صلِ علیٰ نبینا صلِ علیٰ محمدٍ

    حشر کے روز ہر زباں پر ہو یہی صدا فقط

    منکر نکیر قبر میں ہم سے سوال جب کریں

    ایسے میں ورد ہم رکھیں آپ کے نام کا فقط

    نزع کے وقت جب مری سانسوں میں انتشار ہو

    میری نظر کے سامنے گنبد ہو وہ ہرا فقط

    دن رات میرے سامنے تذکرۂ حبیب ہو

    مجھ سے مریضِ عشق کی ہے یہی اک دوا فقط

    شمس و قمر شجر حجر حور و ملک زمیں فلک

    انسان و جن سبھی میں ہیں انوارِ مصطفیٰ فقط

    ارنی کی آرزو رہی سیدنا کلیم کو

    دیدار رب کا کر سکے سردارِ انبیا فقط

    خاتمِ مرسلین کی ذات بھی کیا عجیب ہے

    لازم ہے انبیا کو بھی ان کی ہی اقتدا فقط

    نعتِ رسولِ پاک ہے نظمیؔ کا مقصدِ حیات

    قبر میں بھی لبوں پہ ہو سرکار کی ثنا فقط

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے