مہ و خورشید ہیں قربان جمالِ عارض
مہ و خورشید ہیں قربان جمالِ عارض
مرحبا صلِ علیٰ شانِ کمالِ عارض
ہم نے جب بھی رخِ انور کا تصور باندھا
پائی قرآں کی سورت میں مثالِ عارض
صدقہء نورِ محمد ہے وجودِ عالم
حسنِ عالم ہے رہینِ خد و خالِ عارض
اور کیا چاہیے اس حسنِ محمد کا ثبوت
رب بیاں کرتا ہے قرآں میں مثالِ عارض
عیدِ ایماں کی بشارت ہے ہر اک مؤمن کو
فلکِ رخ پہ مزین ہے ہلالِ عارض
منبعِ نور سراسر ہے جبینِ اقدس
اور آئینۂ طلعت ہے جمالِ عارض
مطلعِ نظم جہاں ہے رخِ انور ان کا
حسنِ مطلع کو مناسب ہے مثالِ عارض
جو بھی سنتا ہے وہ کہتا ہے بس اک بات کہ ہاں
نظمیؔ کرتا ہے بیاں خوب ہی حالِ عارض
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.