Font by Mehr Nastaliq Web

بحرو بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش

نظمی مارہروی

بحرو بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    بحرو بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش

    روبرو آقا کے عالم ہیں سراسر خاموش

    ابنِ خطاب تو نکلے تھے کہ سر لے آئیں

    اک نظر آقا کی اور ہوگئے تیور خاموش

    پیالہ بھر پانی میں انگشتِ مبارک کا کمال

    برکتیں دیکھ کے رہ جائیں سمندر خاموش

    تابِ خورشید کہاں اور کہاں ان کے رخسار

    مسکرا دیں تو ہو مہتابِ منور خاموش

    حرمِ مکہ میں جس وقت طواف ہوتا ہے

    سنیے سنیے وہ ترنم ذرا رہ کر خاموش

    عشق صادق ہے تو آقا کی ثنا گائیں گے

    رہ نہ پائیں گے عقیدت کے کبوتر خاموش

    بخشوانے وہ غلاموں کو ضرور آئیں گے

    مصطفیٰ رہ نہیں سکتے سرِ محشر خاموش

    گدڑی پہنے ہوئے اللہ کے سپاہی نکلے

    جن کی ہیبت سے ہوئے روم کے لشکر خاموش

    سبز پوشوں کی صفوں میں وہی اول ٹھہرے

    رعبِ لاہوتی کے آگے ہیں دلاور خاموش

    فیض ہے کلکِ رضا کا یہ ہے مرشد کا کرم

    نظمیؔ کی نعتیں سنیں رہ کے سخنور خاموش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے