بحرو بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش
بحرو بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش
روبرو آقا کے عالم ہیں سراسر خاموش
ابنِ خطاب تو نکلے تھے کہ سر لے آئیں
اک نظر آقا کی اور ہوگئے تیور خاموش
پیالہ بھر پانی میں انگشتِ مبارک کا کمال
برکتیں دیکھ کے رہ جائیں سمندر خاموش
تابِ خورشید کہاں اور کہاں ان کے رخسار
مسکرا دیں تو ہو مہتابِ منور خاموش
حرمِ مکہ میں جس وقت طواف ہوتا ہے
سنیے سنیے وہ ترنم ذرا رہ کر خاموش
عشق صادق ہے تو آقا کی ثنا گائیں گے
رہ نہ پائیں گے عقیدت کے کبوتر خاموش
بخشوانے وہ غلاموں کو ضرور آئیں گے
مصطفیٰ رہ نہیں سکتے سرِ محشر خاموش
گدڑی پہنے ہوئے اللہ کے سپاہی نکلے
جن کی ہیبت سے ہوئے روم کے لشکر خاموش
سبز پوشوں کی صفوں میں وہی اول ٹھہرے
رعبِ لاہوتی کے آگے ہیں دلاور خاموش
فیض ہے کلکِ رضا کا یہ ہے مرشد کا کرم
نظمیؔ کی نعتیں سنیں رہ کے سخنور خاموش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.