Font by Mehr Nastaliq Web

پھر مدینہ کا سفر یاد آیا

نظمی مارہروی

پھر مدینہ کا سفر یاد آیا

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    پھر مدینہ کا سفر یاد آیا

    اپنے سرکار کا در یاد آیا

    رحمتِ رب جہاں پل پل برسے

    طیبہ برکات نگر یاد آیا

    امتِ عاصی کے قدموں میں بچھے

    وہی جبریل کا پر یاد آیا

    حشر میں مغفرتِ امت کو

    وہ بندھا بند کمر یاد آیا

    روبرو جس کے دعائیں مانگیں

    خانۂ کعبہ کا در یاد آیا

    جہاں آمین کہیں قدوسی

    ملتزم اور حجر یاد آیا

    رخصتِ طیبہ کا غمگیں منظر

    بھولنا چاہا مگر یاد آیا

    ہم مدینے میں رہے جتنے دن

    ایک لمحہ بھی نہ گھر یاد آیا

    شہرِ بغداد نشانِ جنت

    مرکزِ قلب و نظر یاد آیا

    کیا بھلی ہے یہ فضائے اجمیر

    خواجۂ پاک کا در یاد آیا

    کیسے آپے میں رہیں گے نظمیؔ

    گنبدِ سبز اگر یاد آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے