تری الفت میں مرنا اے نبی خوش زندگانی ہے
تری الفت میں مرنا اے نبی خوش زندگانی ہے
کہ اس درد و الم میں دوجہاں کی شادمانی ہے
تری شانِ نبوت کا مقابل مل نہیں سکتا
کہ تجھ سے کوئی اول ہے نہ ہمسر ہے نہ ثانی ہے
تمہارے جلوۂ رخ میں جھلک ہے نورِ خالق کی
مرے اس قول پر صادق حدیثِ من رآنی ہے
ذرا آ جاؤ میرے دیدۂ دل میں کرم کر کے
تصدق مجھ کو ہونا ہے یہی مدّت سے ٹھانی ہے
چلے آؤ شہِ والا مرے ٹوٹے ہوئے دل میں
مرا دل عرش ہے کعبہ ہے بیت اُمّ ہانی نے
خوشا تقدیرِ رنجوری کہ آئیں وہ عیادت کو
نہ رنجوری کہو اس کو حیاتِ جاودانی ہے
کہے دیتا ہوں قابو میں رہیں صبر وشکیب دل
کسی نے بزم میں آنے کی اپنے دل میں ٹھانی ہے
کہاں یثرب کہاں جنت خدارا واعظو چپ ہو
تمہاری کون سنتا ہے تمہاری کس نے مانی ہے
اگر مل جائیں ہفت اقلیم بھی تو میں نہ لوں ہرگز
کہ شاہی سے زیادہ ان کے در کی پاسبانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.