قبر میں صلی علیٰ کی روشنی کام آگئی
قبر میں صلی علیٰ کی روشنی کام آگئی
حشر کے میدان میں نعتِ نبی کام آگئی
مدحتِ سرکار لکھی اور سنائی بھی انہیں
دل کی آنکھوں سے بھی اپنی حاضری کام آگئی
ورنہ مجھ ایسا خطا وار اور بخشش کی سند
حشر میں اٹھتی صدائے امتی کام آگئی
مدح کرکے کبریا اور سیدِ کونین کی
بات میں نے جو کہی میرے وہی کام آگئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.