جس کے گھر ذکرِ شہِ دیں کی سحر ہوتی ہے
جس کے گھر ذکرِ شہِ دیں کی سحر ہوتی ہے
اس پہ رحمت کی شب و روز نظر ہوتی ہے
نعت لکھتا ہوں تو کھلتے ہیں معانی کے گلاب
جب کبھی تیری عنایت کی نظر ہوتی ہے
دل کی دھڑکن کا ہر اک تار درودوں میں ڈھلے
میرے سرکار کو ہر آن خبر ہوتی ہے
عشقِ سرکار ہی اک ایسا خزانہ ہے کہ بس
جس سے مفلس کی بھی تقدیر گہر ہوتی ہے
ان کے دربار سے خالی کوئی لوٹا ہی نہیں
ہر تمنا وہاں امیدِ ثمر ہوتی ہے
عشقِ سرکار میں ڈوبے ہوئے دل والوں کی
ہر ادا باعثِ تسکینِ بشر ہوتی ہے
ان کے قدموں کی طرف اٹھتے ہیں سجدوں کے شعور
یوں عبادت بھی محبت کا ہنر ہوتی ہے
عنبرؔ اک نامِ محمد ہی سہارا ہے مرا
اسی نسبت سے مری زیست امر ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.