یہ شان یہ وقار ہے شایانِ مصطفیٰ
یہ شان یہ وقار ہے شایانِ مصطفیٰ
قرآن میں خدا ہے ثنا خوانِ مصطفیٰ
ہر بلبلِ چمن ہے ثنا خوانِ مصطفیٰ
ہر گل ہزار دل سے ہے قربانِ مصطفیٰ
دونوں جہاں کی نعمتیں اس کو نصیب ہیں
جو خوانِ مصطفیٰ پر ہے مہمانِ مصطفیٰ
مجھ کو طلب نہیں ہے کسی خضرِ راہ کی
جب تک ہے میرے ہاتھ میں دامانِ مصطفیٰ
بادِ خزاں کہ بادِ مخالف چلے ہزار
پھولا پھلا رہے گا گلستانِ مصطفیٰ
در اصل وہ ہے لاکھ امیروں کا اک امیر
حاصل ہے جس کو دولتِ عرفانِ مصطفیٰ
پڑھتا ہوں نعت جب میں تو کہتے ہیں اہل دل
اے قیسؔ تو ہے بلبلِ بستانِ مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.