Font by Mehr Nastaliq Web

ابھی تک قلبِ افسردہ جواں معلوم ہوتا ہے

قیصر حیدری دہلوی

ابھی تک قلبِ افسردہ جواں معلوم ہوتا ہے

قیصر حیدری دہلوی

MORE BYقیصر حیدری دہلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    ابھی تک قلبِ افسردہ جواں معلوم ہوتا ہے

    یہ در پردہ کوئی روحِ رواں معلوم ہوتا ہے

    جسے دیکھو، وہی ایذار ساں معلوم ہوتا ہے

    زمیں کا ذرہ ذرہ آسماں معلوم ہوتا ہے

    کچھ اس اسلوب سے آغاز کی ہے داستاں میں نے

    کہ ہر فقرہ مکمل داستاں معلوم ہوتا ہے

    بدل ڈالا ہے ماحولِ قفس اتنا اسیروں نے

    کہ بادی النظر میں آشیاں معلوم ہوتا ہے

    سحر سے شام تک سجدے ہیں اور سجدے بھی بے گنتی

    سرِ شوریدہ جز و ِآستاں معلوم ہوتا ہے

    بباطن تو ہی تو ہر انجمن میں جلوہ آرا ہے

    بظاہر تیرا ہر جلوہ نہاں معلوم ہوتا ہے

    نگاہیں روضۂ خسرو ؔپہ قیصرؔ کانپ جاتی ہیں

    کہ زندہ موجدِ اردو زباں معلوم ہوتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 92)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے