ابھی تک قلبِ افسردہ جواں معلوم ہوتا ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
ابھی تک قلبِ افسردہ جواں معلوم ہوتا ہے
یہ در پردہ کوئی روحِ رواں معلوم ہوتا ہے
جسے دیکھو، وہی ایذار ساں معلوم ہوتا ہے
زمیں کا ذرہ ذرہ آسماں معلوم ہوتا ہے
کچھ اس اسلوب سے آغاز کی ہے داستاں میں نے
کہ ہر فقرہ مکمل داستاں معلوم ہوتا ہے
بدل ڈالا ہے ماحولِ قفس اتنا اسیروں نے
کہ بادی النظر میں آشیاں معلوم ہوتا ہے
سحر سے شام تک سجدے ہیں اور سجدے بھی بے گنتی
سرِ شوریدہ جز و ِآستاں معلوم ہوتا ہے
بباطن تو ہی تو ہر انجمن میں جلوہ آرا ہے
بظاہر تیرا ہر جلوہ نہاں معلوم ہوتا ہے
نگاہیں روضۂ خسرو ؔپہ قیصرؔ کانپ جاتی ہیں
کہ زندہ موجدِ اردو زباں معلوم ہوتا ہے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 92)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.