Font by Mehr Nastaliq Web

لے کے ہاتھوں میں قلم سوچ رہا ہوں کب سے

قیصرالجعفری

لے کے ہاتھوں میں قلم سوچ رہا ہوں کب سے

قیصرالجعفری

MORE BYقیصرالجعفری

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت عائشہ صدیقہ (مدینہ-سعودی عرب)

    لے کے ہاتھوں میں قلم سوچ رہا ہوں کب سے

    اپنے احساس کے پر نوچ رہا ہوں کب سے

    کیا زمیں ہے کہ قدم کانپ رہا ہے میرا

    عالم الغیب! قلم کانپ رہا ہے میرا

    خشک ہونٹوں کو دعاؤں سے ترو تازہ کروں

    پھر اڑوں پہلے پروبال کا اندازہ کروں

    واقعہ سخت ہے اندازِ بیاں چاہتا ہوں

    جو نہ ہو بارِ سماعت وہ زباں چاہتا ہوں

    ذکر ہے زیرِ قلم عائشہ صدیقہ کا

    شمعِ فانوسِ حرم عائشہ صدیقہ کا

    عائشہ بنت ابوبکر نسب تھا جن کا

    سیدہ عائشہ صدیقہ لقب تھا جن کا

    عائشہ آئینہ تھی صورت و سیرت جن کی

    عائشہ آئی ہے قرآن میں حرمت جن کی

    عائشہ سنتِ سرکارِ دوعالم کی امین

    عائشہ دائرۂ قدس میں اک شمعِ مبین

    عائشہ خلوت و جلوت میں پیمبر کی شریک

    عائشہ رنج و خوشی سب میں برابر کی شریک

    عائشہ سرورواں نگہتِ گل موجِ صبا

    عائشہ جانِ وفا جانِ یقیں جانِ حیا

    عائشہ سارے مسلمانوں کی ماں جیسی تھی

    عائشہ جسم نبی میں دل و جاں جیسی تھی

    عائشہ مظہرِ صد جذبۂ ایمانی تھیں

    آج اس موڑ پہ تصویر پریشانی تھیں

    سوچتا ہوں کہ یہ بہتان طرازی کیا تھی

    کس نے یہ کھیل رچایا تھا یہ بازی کیا تھی

    آسماں کانپ گیا ہوگا زمیں کیسی ہے

    آنکھ کھلتی نہیں اس کی یہ لعیں کیسی ہے

    اپنی چھاتی پہ لیے پھرتی ہے ناداں کیا کیا

    پالتی رہتی ہے کیڑے تہہِ داماں کیا کیا

    سو گناہوں سے بھری رہتی ہے زنبیل اس کی

    کتنے فرعونوں کے ہاتھوں ہوئی تذلیل اس کی

    پھر بھی کاندھے پہ بلاؤں کو لیے پھرتی ہے

    اپنے پتھر کے خداؤں کو لیے پھرتی ہے

    ظلمتیں پھیلی چلی جاتی ہیں جنگل کی طرح

    یہ نگل کیوں نہیں جاتی انہیں دلدل کی طرح

    دشت میں ہار گرا اور یہ خاموش رہی

    آ گیا ہوش فرشتوں کو یہ بے ہوش رہی

    قافلہ چل بھی دیا اور نہ روکا اس نے

    دے دیا عائشہ صدیقہ کو دھوکا اس نے

    اس کے چہرے کا وہی رنگ رہا کم نہ ہوا

    عائشہ رہ گئیں تنہا تو اسے غم نہ ہوا

    صبح کو قافلہ جب رختِ سفر باندھ چکا

    اٹھ کے چلنے کے لیے اپنی کمر باندھ چکا

    ایسے موقعے پہ اسے شور مچا دینا تھا

    آپ محمل میں نہیں ہیں یہ بتا دینا تھا

    عائشہ دشت میں کیوں اس طرح تنہا ہوتیں

    کیوں وہ چادر کو لپیٹے ہوئے اتنا روتیں

    آ نہ جاتے وہاں صفوان تو پھر کیا ہوتا

    کس طرح پار سلگتا ہوا صحرا ہوتا

    وہ نہ آتے جو سرِ راہ گزر کیا کرتیں

    غیر محرم سہی صفوان مگر کیا کرتیں

    فاصلہ دور تھا کوسوں کا سفر کرنا تھا

    حادثہ کیا ہے یہ منزل کو خبر کرنا تھا

    ایک معصوم پہ بہتان الٰہی توبہ

    عائشہ اور یہ طوفان الٰہی توبہ

    قصۂ افک اٹھا دور تلک پھیل گیا

    دشت تو دشت مدینے میں بھی شک پھیل گیا

    عائشہ کا جو سکوں اہلِ ستم نے چھینا

    پھٹ گیا کیوں نہ اسی وقت زمیں کا سینا

    ہائے وہ دشت جہاں ہار گلے کا کھویا

    بن گیا تہمتِ بے جاں کا بہانہ گویا

    ما سوا ابن ابی تین مسلمان بھی تھے

    کفر کے ساتھ یہ کعبے کے نگہبان بھی تھے

    ڈوبنے والے تھے سب ریت پہ چلنے والے

    کسی ساحل پہ نہ پہنچے یہ اچھلنے والے

    دل کے اندھے تھے جو یہ ہوگئے شامل ان میں

    ایسی افواہ اڑی پھیل گئی اک دن میں

    آ گیا کالی زبانوں پہ جو دل کا کینہ

    پھٹ گیا کیوں نہ اسی وقت زمیں کا سینہ

    شامِ غم آئی ستارے بھی سیہ پوش ہوئے

    ماں نے منہ پھیر لیا باپ بھی خاموش ہوئے

    چھلچھلانے لگے جب آنکھ سے آنسو ان کے

    کون تھا رکھ لے جو دامن میں یہ موتی چن کے

    چہرہ مرجھا گیا بادل وہ گھنیرا چھایا

    بھوک پیاس اڑ گئی آنکھوں میں اندھیرا چھایا

    دیکھنا کیا کہ تعلق کے بھی آثار نہ تھے

    شاہ دیں بات بھی کرنے کے روا دار نہ تھے

    چھا گیا چشمِ مروت میں دھواں جیسا کچھ

    ہوگیا لوگوں کا اندازِ بیاں ایسا کچھ

    بے گناہی بھی گنہگار نظر آنے لگی

    کچھ سیاہی پسِ دیوار نظر آنے لگی

    ایک جھٹکے میں جو دیوارِ محبت ٹوٹی

    دل پریشان ہوا سر پہ قیامت ٹوٹی

    ہاتھ سے چھوٹ کے گرنے لگا جب آئینہ

    پھٹ گیا کیوں نہ اسی وقت زمیں کا سینہ

    رائیگاں ہوتے نہیں اہلِ وفا کے آنسو

    آسمانوں پہ پہنچتے ہیں دعا کے آنسو

    آخرش سورۂ والنور نے نازل ہوکر

    رکھ دئیے دامنِ معصوم کے دھبے دھو کر

    دشمنی اتنے لبادوں میں بھی عریاں نکلی

    کھل گئی آنکھ تو رودادِ پریشاں نکلی

    عائشہ زینتِ قرطاسِ حیا آج بھی ہیں

    سورۂ نور میں تفسیرِ ضیا آج بھی ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے