یہ رات جس کو فرشتوں کی رہ گزر کہیے
یہ رات جس کو فرشتوں کی رہ گزر کہیے
یہ رات جس کی دعاؤں کو معتبر کہیے
یہ رات جس میں مشیت کے راز فاش ہوئے
یہ رات جس کے اندھیرے ستارہ پاش ہوئے
یہ رات جس نے درِ کبریائی کھولے ہیں
یہ رات جس نے رموزِ خدائی کھولے ہیں
یہ رات جس میں تجلی کی ایسی چھوٹ پڑی
کہ جیسے چاروں طرف کہکشاں سی ٹوٹ پڑی
یہ رات جس میں سرِ لامکاں حضور گئے
حصارِ وقت سے باہر مثالِ نور گئے
یہ رات عرش پہ خیمے لگا دئے جس نے
حریمِ ناز کے پردے اٹھا دئے جس نے
یہ رات لوحِ دل و جاں پہ اک لکیر بنی
یہ رات مملکتِ عشق کی سفیر بنی
یہ رات منزلِ تاباں دل و نگاہ کی ہے
یہ رات ایک کڑی رمزِ لا الٰہ کی ہے
یہ رات جس میں کٹیں فاصلے کی زنجیریں
یہ رات جس میں کھنچیں کہکشاں کی تصویریں
یہ رات جس میں ستارے غبارِ راہ بنے
یہ رات جس کے تبسم سے مہر و ماہ بنے
ضرور آج کوئی بات ہونے والی تھی
یہ رات ایک بڑی رات ہونے والی تھی
عشا کا وقت تھا مکے پہ نیند طاری تھی
ہزار راتوں پہ یہ ایک رات بھاری تھی
حضور گھر پہ تھے اس وقت ام ہانی کے
دریچے کھل گئے معراجِ آسمانی کے
ذرا سی آنکھ رسولِ خدا کی جھپکی تھی
کہ جبرئیل نے چوکھٹ پہ آکے دستک دی
جگا کے آپ کو منشائے رب بیان کیا
جو مدعائے سفر تھا وہ سب بیان کیا
کہا کہ رب نے بلایا ہے آسمانوں پر
زمیں کو برتری دینی ہے دو جہانوں پر
اتر کے عرش سے بے اختیار آیا ہوں
مثالِ برق اڑے وہ براق لایا ہوں
ہے آسماں کی طنا بوں پہ اختیار مرا
گزر ہے دونوں جہانوں کے آر پار مرا
نظر اٹھائیں رکاب و زمام حاضر ہے
قدم بڑھائیں جلو میں غلام حاضر ہے
خلا کی بات نہ تھی آسماں کی بات نہ تھی
جسے شعور پہ تولیں یہ ایسی رات نہ تھی
سفر میں ہفت سماوات سے گزرنا تھا
بڑے عجیب مقامات سے گزرنا تھا
قدم قدم پہ حجابِ نظر اٹھائے گئے
پلک جھپکتے ہی کیا کیا مقام آئے گئے
حرم سے طور گئے طور سے لحم پہنچے
کسے خبر کہ کہاں سے کہاں قدم پہ پہنچے
براق مسجدِ اقصیٰ میں اڑ کے جا ٹھہرا
وہاں تمام رسولوں کا سامنا ٹھہرا
سب انبیائے علیہ السلام تھے موجود
پئے نماز وہاں پر تمام تھے موجود
ملائکہ بھی وہاں پر اتر پڑے سارے
رسول امام بنے مقتدی بنے سارے
براق جس پہ رکا وہ مقام زندہ ہے
زمیں پہ بابِ محمد کا نام زندہ ہے
یہیں سے ثقل مکانی کا رابطہ ٹوٹا
یہیں سے عرشِ معلیٰ کا راستہ پھوٹا
بدن کا بوجھ لیے لامکاں سے پار گئے
پلک جھپکتے ہی سوئے دیارِ یار گئے
نظر کے سامنے سب رازِ کائنات کھلے
پڑے تھے جتنے بھی پردے سب ایک ساتھ کھلے
سوادِ عرشِ معلیٰ تھا آئنہ ان کا
دیارِ نور سے جاتا تھا راستہ ان کا
پہنچ کے سایۂ سدرہ میں رک گئے جبریل
یہ بارگاہ تھی ایسی کہ جھک گئے جبریل
بس اس مقام سے آگے میں جا نہیں سکتا
میں حد سے بڑھ کے پروں کو جلا نہیں سکتا
یہ پیڑ میری اڑانوں کی آخری حد ہے
اب اس کے بعد سرا پردہ محمد ہے
پس حجاب گزر گاہ حسن و نور کی ہے
اب اس کے بعد جو منزل ہے وہ حضور کی ہے
یہاں سے آپ اکیلے قدم اٹھائے چلے
عجیب دہشت و حیرت کے سائے سائے چلے
ندا یہ آئی کہ میرے حبیب آجاؤ
قریب اور زیادہ قریب آ جاؤ
پھر اس کے بعد دوئی کا نہیں تھا نام وہاں
ربوبیت تھی نبوت سے ہم کلام وہاں
تمام عکس فروزاں تمام آئینہ
بنے تھے سب درو دیوار و بام آئینہ
سفر تمام ہوا سات آسمانوں کا
کہ فاصلہ تھا وہاں صرف دو کمانوں کا
تمام عالم فردا نظر کے سامنے تھا
بتائے کون کہ کیا کیا نظر کے سامنے تھا
ہیں پنج وقتہ نمازیں وہیں کا نذرانہ
زمانہ جن کو ادا کر رہا ہے روزانہ
نہ یہ کسی کو ملے گا نہ یہ کسی کو ملا
جو مرتبہ مرے آقا مرے نبی کو ملا
تمام عالم لوح و قلم کی سیر کے بعد
وہ منتہی سے اتر آئے اتنی دیر کے بعد
کہ ام ہانی کی زنجیر ہل رہی تھی ابھی
چلے سفر پہ جہاں سے وہی گھڑی تھی ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.