پہلے دو بوند نظر شمعِ حرم سے کھینچوں
پہلے دو بوند نظر شمعِ حرم سے کھینچوں
پھر محمد کا سراپا میں قلم سے کھینچوں
نور ہی نور سے معمور تھا سینہ ان کا
مشک و عنبر سا مہکتا تھا پسینہ ان کا
چہرۂ پاک پہ والشمس کی تابانی تھی
دیکھ کر چاند سا منہ چاند کی حیرانی تھی
سرو بھی پاؤں چھوئے وہ قدِ بالا ان کا
مسکرائیں تو اڑے جگ میں اجالا ان کا
لبِ لعلیں سے گلابوں کی مہک آتی تھی
دیکھ لیتے تو ستاروں میں چمک آتی تھی
زلف اڑتی تھی تو رحمت کی گھٹا لگتی تھی
بات کرتے تھے تو ہونٹوں پہ دعا لگتی تھی
دانت کھل جائیں تو آنکھوں کو گہر لگتے تھے
کلمہ پڑھتے تھے تو آواز کو پر لگتے تھے
جا کے پڑتا تھا ستاروں پہ تبسم ان کا
نور ہی نور تھا اندازِ تکلم ان کا
قاتلوں سے بھی وہی ربطِ مسیحائی تھا
ہائے کس موڑ پہ اندازِ شکیبائی تھا
آندھیوں میں بھی وہی شمع درخشندہ تھی
شخصیت سارے رسولوں کی نمائندہ تھی
روح میں دل وہی سوزِ براہیمی تھا
وہی کردار وہی جذبۂ تسلیمی تھا
ابھی ہونٹوں پہ نہ آتی تھی دعائیں ان کی
سن لیا کرتا تھا اللہ صدائیں ان کی
عرصۂ جنگ میں رو رو کے مناجاتیں ہوں
پھول برسائیں جہاں خون کی برساتیں ہوں
ان کی تلوار اٹھی پھول کھلانے کے لیے
جنگ تھی حق کے لیے فتح زمانے کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.