Font by Mehr Nastaliq Web

صبح صادق کے دھندلکوں سے سحر جھانکتی تھی

قیصرالجعفری

صبح صادق کے دھندلکوں سے سحر جھانکتی تھی

قیصرالجعفری

MORE BYقیصرالجعفری

    صبح صادق کے دھندلکوں سے سحر جھانکتی تھی

    نور ہی نور تھا جس سمت نظر جھانکتی تھی

    ڈوبنے والے ستاروں سے فضا تھی روشن

    پرتوِ مہر کے آنے کی صدا تھی روشن

    آسمانوں پہ فرشتوں کے پرے پھرتے تھے

    اپنے دامن میں اجالوں کو بھرے پھرتے تھے

    ریگِ صحرا کو بھی شبنم نے بھگو رکھا تھا

    رات نے خود کو کھجوروں میں سمو رکھا تھا

    روشنی عرش کی مکے کے دروبام پہ تھی

    منزلِ بعثِ نبی سامنے دوگام پہ تھی

    آمنہ مرحلۂ درد میں آرام سے تھیں

    حجلۂ قدس میں حوریں بھی سرِ شام سے تھیں

    بطنِ مادر میں جو موتی تھا زمرد ٹھہرا

    دھوم مکے میں ہوئی نام محمد ٹھہرا

    وہ محمد جسے سرمایۂ جاں ہونا تھا

    وہ نبی جس کو یتیمی میں جواں ہونا تھا

    وہ محمد ابو طالب کی نظر کا تارا

    وہ نبی ظلمتِ عالم میں سحر کا تارا

    وہ محمد کہ صحیفوں میں خبر تھی جس کی

    وہ بنی عالم فردا پہ نظر تھی جس کی

    وہ محمد جسے تقدیسِ حرم ہونا تھا

    وہ نبی جس کو شہِ جود و کرم ہونا تھا

    وہ محمد جسے صحرا کی اذاں ہونا تھا

    وہ نبی جس کو زمانے کی زباں ہونا تھا

    وہ محمد کہ مقدر کو جگانا تھا جسے

    وہ نبی کلمہ توحید پڑھانا تھا جسے

    وہ محمد کہ وطن وادیٔ بطحیٰ جس کا

    وہ نبی مطلبی ہاشمی شجرا جس کا

    وہ محمد کہ یہ سب کون و مکاں جس کا تھا

    وہ نبی سارا جہاں سارا جہاں جس کا تھا

    وہ محمد جسے دنیا میں امیں بننا تھا

    وہ نبی جس کو سراپائے یقیں بننا تھا

    وہ محمد جسے ظلمات کو سر کرنا تھا

    وہ نبی جس کو ستاروں میں سفر کرنا تھا

    وہ محمد جسے کونین پہ چھا جانا تھا

    وہ نبی جس کو اجالوں میں نہا جانا تھا

    وہ محمد جسے تکمیلِ خودی کرنی تھی

    وہ نبی جس کو روایت شکنی کرنی تھی

    وہ محمد وہ پیمبر وہ رسولِ آخر

    وہ نبی ساری اصولوں میں اصولِ آخر

    وہ محمد جسے دنیاؤں کی دنیا کہیے

    وہ نبی جس کو مشیت کا اشارہ کہیے

    وہ محمد جسے انسانِ مکمل کہیے

    وہ نبی جس کی رسالت کو مسلسل کہیے

    وہ محمد جسے معراجِ بشر ملنی تھی

    وہ نبی جس کو حجابوں کی خبر ملنی تھی

    وہ محمد جسے تکمیلِ نبوت کہیے

    وہ نبی جس کو شریعت ہی شریعت کہیے

    وہ محمد جسے ہجرت کا سفر کرنا تھا

    وہ نبی جس کو مدینے میں گزر کرنا تھا

    وہ محمد کہ زمانے پہ کرم جس کا پڑا

    وہ نبی عرش معلیٰ پہ قدم جس کا پڑا

    وہ محمد کہ تراشی نئی منزل جس نے

    وہ نبی توڑ دیئے بازوئے باطل جس نے

    وہ محمد کہ دل و جاں میں تھا ڈیرا جس کا

    وہ نبی وقت سے آگے تھا پھریرا جس کا

    وہ محمد کہ سبھی سلطنتیں جس کی تھیں

    وہ نبی عشق کی سب مملکتیں جس کی تھیں

    وہ محمد کہ شجر جس کا حجر جس کا تھا

    وہ نبی معجزۂ شقِ قمر جس کا تھا

    وہ محمد کہ جہاں آئینہ خانہ جس کا

    وہ نبی سارے زمانے کا خزانہ جس کا

    آمنہ پھول ہیں خوشبو ہیں ’’محمد‘‘ ان کی

    انتہا کوئی تھی ان کی نہ کوئی حد ان کی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے