مقام اس کا فرازِ آسماں تھا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
مقام اس کا فرازِ آسماں تھا
کہ خسرو خسرو اہلِ بیاں تھا
کبھی انگلی ستارِ جاں فزا پر
کبھی شعر و سخن کا رازداں تھا
کبھی تھا سوزِ سارنگی سے مسحور
کبھی ڈھولک پہ ہاتھ اس کا رواں تھا
پکھاوج سے کبھی کرتا تھا باتیں
کبھی شہنائی سے نغمہ فشاں تھا
کبھی تھا رقص کی محفل میں موجود
کبھی نور دل روحانیاں تھا
عجب تھی قوتِ ایجاد اس کی
ہر اک فن میں وہ یکتائے زماں تھا
جہاں سجدے کیے اس کی جبیں نے
نظام الدین کا وہ آستاں تھا
اب اس سے بڑھ کے کیا تعریف ہوگی
کہ سعدی سا سخنور قدرداں تھا
زبان ہندوی اس نے سنواری
وہ اک ایسا عظیم اہلِ زباں تھا
جو گوری سوئی مکھ پر کیس ڈالے
ہوا تاریک خسرو کا جہاں تھا
فراقِ پیر میں دم اس نے توڑا
وہی لمحہ وصال جاوداں تھا
عدیم المثل تھی تاریخ وصلش
جہاں میں اس کا ثانی ہی کہاں تھا
نہ کیوں اس کو کہیں ہم طوطیٔ ہند
وہ پہلا شاعرِ اردو زباں تھا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 75)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.