اے رحمتوں کے بانی چشمِ کرم ادھر بھی
اے رحمتوں کے بانی چشمِ کرم ادھر بھی
یہ گردشِ زمانہ مدت سے میرے سر ہے
اظہارِ مدعا بھی توہین ہے کرم کی
جو کچھ میں چاہتا ہوں اس کی انہیں خبر ہے
بے تاب ہو رہے ہیں سجدے قدم قدم پر
اے بے خودی بتانا یہ کس کی رہ گزر ہے
طیبہ کے راستوں میں تنہائیوں کا ڈر کیا
جب رحمتِ الٰہی خود میری ہمسفر ہے
اے رحمتِ دوعالم کچھ اس طرف توجہ
اِک بے نوا قمرؔ بھی محتاجِ ایک نظر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.