نعتِ محبوبِ خدا جس کا مقدر ٹھہرے
نعتِ محبوبِ خدا جس کا مقدر ٹھہرے
کیوں نہ وہ شخص مقدر کا سکندر ٹھہرے
آپ ممدوحِ خدا صاحب کوثر ٹھہرے
جتنے بدخواہ تھے سرکار کے، ابتر ٹھہرے
آپ کی مدح و ثنا قرض رہے گی ہم پر
آپ اوصافِ حمیدہ کا سمندر ٹھہرے
آپ ہیں نورِ خدا آپ سراپا رحمت
کوئی کِس طرح بھلا، آپ کا ہمسر ٹھہرے
آپ کے صدقے میں تخلیق ہوئے ہیں عالم
آپ ہی خلقتِ کونین کا محور ٹھہرے
آپ ادنیٰ سا اشارہ بھی اگر فرما دیں
گردشِ وقت رکے، مہرِ منور ٹھہرے
آپ کے در کا شرف کوئی بھلا کیا جانے
یہ وہ در ہے کہ جہاں وقت بھی آکر ٹھہرے
کیوں نہ دشمن بھی کریں آپ کی توصیف و ثنا
آپ الطاف و عنایات کا پیکر ٹھہرے
جن کو خود عرش پہ خالق نے بلایا ہو قمرؔ
غیر ممکن ہے کوئی ان کے برابر ٹھہرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.