ازل سے تا بہ ابد حکمرانیاں اس کی
ازل سے تا بہ ابد حکمرانیاں اس کی
زمیں سے تا بہ فلک دل نوازیاں اس کی
ورائے عرش کہ زیرِ زمیں یہاں کہ وہاں
ہیں شش جہات میں پھیلی نشانیاں اس کی
بہشت اس کی ہے اور جنتی اسی کے ہیں
ہر اک پھول اسی کا ہے تتلیاں اس کی
ورائے ارض و سما ماورائے علم و خرد
سمندروں کی تہوں میں ہیں مچھلیاں اس کی
قصیدہ اس کا غزل اس کی نظم اس کی ہے
امینِ شہرِ نگاراں رباعیاں اس کی
جراحتوں کے کنول بھی وہی کھلاتا ہے
بہت عزیز ہیں نامہربانیاں اس کی
اسی کے نور سے بزمِ خیال روشن ہے
قمر کی ضو میں ہیں جلوہ فشانیاں اس کی
قمرؔ کی حوصلہ مندی کے سب ہی قائل ہیں
کہ ہر محاذ پہ جاری ہیں کشتیاں اس کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.