خدائے پاک کا اسمِ گرامی اسمِ اکبر ہے
خدائے پاک کا اسمِ گرامی اسمِ اکبر ہے
بیانِ حمد لازم ہے خدا ہی سب سے بڑھ کر ہے
زہے قسمت رسولِ پاک کے در پر مرا سر ہے
وہیں پر وہ پہنچتا ہے جہاں جس کا مقدر ہے
ستاروں سے کسی کی زندگی روشن نہیں ہوتی
مہ و اختر سے وہ بہتر ہے جس کا دل منور ہے
ہمارے نفس میں حرص و ہوس کی بو نہیں آئی
ہمارے مسلکِ حق میں قناعت لقمہ تر ہے
محبت رقص کرتی ہے عقیدت سر جھکاتی ہے
جو ہے محبوبِ عالم کا یہ اس محبوب کا در ہے
یہاں دنیا کی چاہے اور کوئی شے نہ ہو لیکن
یہاں توحیدِ یزداں ہے یہاں حبِ پیمبر ہے
خدا کا نام لے اور ڈوب جا بحرِ محبت میں
سمندر کی ضرورت کیا یہاں قطرہ سمندر ہے
مجھے حاصل ہے اپنے شیخ کی بخشی ہوئی مستی
مجھے وہ کیا پلائے گا جو خود محتاجِ ساغر ہے
تمہارے روضہ اقدس پہ دونوں لطف ہیں شامل
کہیں کعبے کا عالم ہے کہیں طیبہ کا منظر ہے
کوئی پوچھے کہ آقائی ہے بہتر یا غلامی ہے
قمرؔ کا فیصلہ ہوگا غلامی سب سے بڑھ کر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.