جب آ گئے قدمِ مصطفیٰ مدینے میں
جب آ گئے قدمِ مصطفیٰ مدینے میں
وقار پا گئے ارض و سما مدینے میں
عجب ہے لطف و کرم کی فضا مدینے میں
قبول ہوتی ہے سب کی دعا مدینے میں
ہر ایک ذرہ وہاں کا حیات افزا ہے
خدا نے رکھی ہے خاکِ شفا مدینے میں
تمام ظرفِ صحابہ یہیں تو چمکے ہیں
ہر آئینے کو ملی ہے جلا مدینے میں
عطائے سرورِ عالم کا یہ بھی ہے اعجاز
گدا کو منصبِ شاہی ملا مدینے میں
زمانہ چاہے تو سیراب آ کے ہو جائے
برس رہی ہے کرم کی گھٹا مدینے میں
خدا نے بخش دیا میرے سب گناہوں کو
ملی نجات جو آئی قضا مدینے میں
قریب سے نہیں گزرا غبارِ رنج و ملال
بدن سے دور رہی ہر بلا مدینے میں
عمر کا روضہ ابو بکر کا مزار شریف
خدا دکھاتا تو سب دیکھتا مدینے میں
مرا گزر جو کبھی شہرِ نور سے ہوتا
ہر ایک ذرے کو میں چومتا مدینے میں
خدا کے بعد ہیں وہ سب سے افضل و برتر
مخالفین کو کہنا پڑا مدینے میں
کھلا ہے بابِ کرم جوش پر ہے ابرِ کرم
فقیرو! اٹھو لگاؤ صدا مدینے میں
قمر چراغ توہم کے بجھ گئے سارے
طلوع مہرِ یقیں جب ہوا مدینے میں
خبر یہ آئے کسی دن قمرؔ چلو اٹھو
بلا رہے ہیں حبیبِ خدا مدینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.