چراغِ انجمنِ اؤلیا غریب نواز
دلچسپ معلومات
منقبت در شان غریب نواز خواجہ معین الدین حسن چشتی (اجمیرـراجستھان)
چراغِ انجمنِ اؤلیا غریب نواز
امین سطوتِ خیبر کشا غریب نواز
مدد کو رحمتِ پروردگار آتی ہے
پکارتا ہے اگر کوئی یا غریب نواز
گل حدیقۂ حسنین نور چشم علی
فدائے سیرت خیرالوریٰ غریب نواز
ہزار شورشِ طوفاں ہو مجھ کو غم کیا ہے
مرے سفینے کے ہیں ناخدا غریب نواز
وہیں سے کھینچ لیا دامنِ کرم نے ترے
غریب نے جو پکارا کہ یا غریب نواز
سجود عشق کی لذت سے آشنا جو ہوا
وہ سر نہ آپ کے در سے اٹھا غریب نواز
خدا کرے وہی نظریں ہوں آپ کے جلوے
یہی دعا ہے یہی مدعا غریب نواز
ہماری سمت بھی للہ اک نگاہ کرم
تڑپ رہا ہے دل مبتلا غریب نواز
برائے خواجۂ عثماں ہو اک نظر آتا
سوئے غریب محبت نما غریب نواز
قمرؔ وہ جام ملا ہے کہ جوش مستی میں
تمام عمر پکاروں گا یا غریب نواز
- کتاب : ہند کے راجہ (Pg. 91)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.