Font by Mehr Nastaliq Web

منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا

قمر الزماں اعظمی

منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا

قمر الزماں اعظمی

MORE BYقمر الزماں اعظمی

    منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا

    زبانِ شوق پر صل علیٰ صلِ علیٰ ہوگا

    جمالِ گنبدِ خضریٰ پہ صدقے ہوگا دل اپنا

    مٹیں گے فاصلے دل ہوگا بابِ حسن وا ہوگا

    سہارا دے گی رحمت آپ کی خود اپنے مجرم کو

    گناہوں کے تصور سے جہاں دل ڈوبتا ہوگا

    برستی ہوں گی آنکھیں جرمِ عصیاں کے تصور سے

    زباں خاموش ہوگی دل سراپا مدعا ہوگا

    احد ارضِ امانت دارِ شہداے محبت ہے

    دلِ دیوانہ اس کے ذرے ذرے پر فدا ہوگا

    وہ مسجد جس کی بنیادیں امینِ رازِ تقویٰ ہیں

    اسی میں مجھ سا عصیاں کوش سجدے میں پڑا ہوگا

    پڑا بیمار ہوگا روضۂ جانِ مسیحا پر

    وفورِ درد ہوگا اور وہ درد آشنا ہوگا

    جبینِ شوق لذت یابِ کیفِ بندگی ہوگی

    وہیں سجدے ادا ہوں گے جہاں پہ نقشِ پا ہوگا

    نفس گم کردہ حاضر ہوں جہاں پر طائرِ سدرہ

    وہاں پر کس طرح حاضر قمرؔ سا پُر خطا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے