محمد مصطفیٰ تم ہو حبیب کبریا تم ہو
محمد مصطفیٰ تم ہو حبیب کبریا تم ہو
جو بالا فہم انساں سے ہو وہ نام خدا تم ہو
لباس عنصری میں مظہر شان خدا تم ہو
قسم اللہ کی آئینہ وحدت نما تم ہو
تمہیں سے بزم ہستی ہے تمہیں تک بزم ہستی ہے
ہماری ابتدا تم ہو، ہماری انتہا تم ہو
اک اک کو یاد ہے اب تک وہ میثاق ازل شاہا
کہ سب ہیں مقتدی ہی مقتدی اک مقتدا تم ہو
مہ و خورشید ہے خاک کف پا کا اک اک ذرہ
کہ اے نور مجسم مظہر نور خدا تم ہو
تمہیں کو ڈوبنے والے نے پایا کشتیٔ دل میں
نہ کوئی ناخدا جس کا ہو اس کے نا خدا تم ہو
شفیع حشر کے معنی جو ہم سمجھے تو یہ سمجھے
جو کام آئے مصیبت میں سر محشر شہا تم ہو
تمہیں سے زینتِ سر دفتر لوح معانی ہے
کہ وحی انبیائے سابقیں میں جا بجا تم ہو
ہے لوح دل پہ نقش ربِ ھب لی امتی اب تک
سریر آرائے محشر یا حبیب کبریا تم ہو
نوید حضرت عیسیٰ ندائے موسیٰ و یحییٰ
مرے مولیٰ خلیل حضرتِ حق کی دعا تم ہو
قتیلؔ بے سرو ساماں پہ بھی چشم کرم شاہا
غریبوں کے سہارا بیکسوں کے آسرا تم ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.