رکھنا ہے تمہیں کو رکھو گے تمہیں کل چاہے رکھو یا آج رکھو
رکھنا ہے تمہیں کو رکھو گے تمہیں کل چاہے رکھو یا آج رکھو
یا شاہ غلام حسین مری جاروب کشی کی لاج رکھو
شاہان زمانہ میں ہو شمار ارباب نظر میں پائیں جگہ
نعلین مقدس سے اپنی سر پر جو ہمارے تاج رکھو
پلتے ہوئے دیکھا سیکڑوں کو اس خوان ولایت سے شاہا
میں بھی ہوں اسی ڈیوڑھی کا گدا مجھ پر بھی نظر مہراج رکھو
تم آل نبی اولاد علی تم شاہ بھی ہو تم ماہ بھی ہو
تم تیغ رکھو تم راج رکھو تم تخت رکھو تم تاج رکھو
پرور دہ تمہارے ٹکڑوں کا از بسکہ قتیلؔ زار بھی ہے
اس کو بھی لگائے قدموں سے از بہر شہِ معراج رکھو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.