وضو کرکے میں لکھوں وصف سرکارِ پیمبر کا
وضو کرکے میں لکھوں وصف سرکارِ پیمبر کا
الٰہی بھیج دے چشمہ کوئی جنت سے کوثر کا
فروغ اللہ اکبر رنگ رخسارِ پیمبر کا
کلیجہ آج تک ہے ٹکڑے ٹکڑے ہر گلِ تر کا
صباحت ماہ کنعاں کی ملاحت مہر بطحا کی
یہ ظاہر کردیا پلّہ گراں ہے سیم سے زر کا
ہے اب تک زرد فرط شرم سے خورشید کا چہرہ
وہ کب دیکھا تھا جلوہ اس نے نقش پائے انور کا
گلِ فردوس کی صورت ہے خوشبو خود اک اک زائر
غبار راہ طیبہ میں ہے عالم مشک و عنبر کا
لقائے روئے انور دیدۂ بیمار کا درماں
ہوائے گیسوئے پر خم مداوا قلب مضطر کا
تمنا چشم تر کی فرش راہِ شوق ہو شاہا
ہو خاکِ آستانِ عرش مزل مدعا سرکا
یہ کاسے میری آنکھوں کے الٰہی تابہ کے خالی
کوئی قطرہ ہی اس میں شربت دیدار سرور کا
دلِ صد پاش کا ہر خانہ خلوت گاہ اقدس ہو
اور ٓنکھوں کا اک اک پردہ ہو پردہ باب اطہر کا
نشان زخم پیر چرخ چمکا ماہ نوبن کر
ازل میں کب دیا تھا تیغ ابرو نے تری چرکا
قتیلؔ بے نوا کے سر پہ سایہ تا ابد یا رب
علی عثماں عمر بو بکر اور ان چاروں کے سرور کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.