Font by Mehr Nastaliq Web

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

راز الہ آبادی

میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    میرے کملی والے کی شان ہی نرالی ہے

    دو جہان کے داتا ہیں سارا جگ سوالی ہے

    خلد جس کو کہتے ہیں میری دیکھی بھالی ہے

    سبز سبز گنبد ہے اور سنہری جالی ہے

    چاند کی طرح ان کو ہم کہیں تو مجرم ہیں

    کیونکہ ان کی چوکھٹ پر چاند خود سوالی ہے

    چھاوؔں مہکی مہکی ہے دھوپ ٹھندی ٹھندی ہے

    شہرِ مصطفیٰ تری ہر بات ہی نرالی ہے

    وہ بلال حبشی ہوں یا اویس قرنی ہوں

    ان پہ مرنے والوں کی ہر ادا نرالی ہے

    ہر طرف مدینے میں بھیڑ ہے فقیروں کی

    ایک دینے والا ہے کُل جہاں سوالی ہے

    ہم گناہ گاروں کو رب سے بخشوالیں گے

    ان کے رب نے کب ان کی کوئی بات ٹالی ہے

    یہ بھی اک توجہ ہے میرے کملی والے کی

    راز میں نے کچھ دن سے شکل یہ بنالی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے