آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے
آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے
راز الہ آبادی
MORE BYراز الہ آبادی
آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے
اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے
اور کچھ دن یہ دستور میخانہ ہے تشنہ کامی کے یہ دن گزر جائیں گے
میرے ساقی کو نظریں اٹھانے تو دو جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
اے نسیم سحر تجھ کو ان کی قسم ان سے جا کر نہ کہنا مرا حالِ غم
اپنے مٹنے کا غم تو نہیں ہے مگر ڈر یہ ہے ان کے گیسو بکھر جائیں گے
اشک غم لےکے آخر کہاں جائیں ہم آنسوؤں کی یہاں کوئی قیمت نہیں
آپ ہی اپنا دامن بڑھا دیجیے ورنہ موتی زمیں پر بکھر جائیں گے
کالے کالے و ہ گیسو شکن در شکن وہ تبسم کا عالم چمن در چمن
کھینچ لی ان کی تصویر دل نے مرے اب وہ دامن بچا کر کدھر جائیں گے
اور کچھ دن فریب بہاراں رہے یہ نہ کہیے چمن میں خزاں آگئی
رنگ معصوم کلیوں کا اڑ جائے گا اور پھولوں کے چہرے اتر جائیں گے
جانے کس کی طرف سے یہ پیغام نو اہل گلشن کو باد صبا دے گئی
جس قدر غنچہ و گل سے کھیلو گے تم راستے اور کانٹوں سے بھر جائیں گے
اور اتنا کرم مالک دوجہاں ان کی قسمت کا غم بھی مجھے بخش دے
آج برباد کرکے مری زندگی کل یہ طوفان غم ان کے گھر جائیں گے
موت آواز دیتی ہے شاید انہیں جانے والے ہیں دنیا سے اہلِ وفا
رازؔ ایسے میں کوئی غزل چھیڑ دو قافلے زندگی کے ٹھہر جائیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.