Font by Mehr Nastaliq Web

محفل نور میں ذکر اس کا آج کیوں بار بار آ رہا ہے

راز الہ آبادی

محفل نور میں ذکر اس کا آج کیوں بار بار آ رہا ہے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)

    محفل نور میں ذکر اس کا آج کیوں بار بار آ رہا ہے

    ہو نہ ہو گلشن مصطفےٰ میں خود وہ جانِ بہار آ رہا ہے

    نور ہے جس میں روئے نبی کا رنگ ملتا ہے جس میں علی کا

    خود مصور کرے ناز جس پر وہ حسیں شاہ کار آ رہا ہے

    وہ کرن صبح کی جگمگائی وہ چمن میں کلی مسکرائی

    آج وہ آنے والے ہیں جن پر خود مشیت کو پیار آ رہا ہے

    داستاں اپنی بربادیوں کی میں شہ دوسریٰ سے کہوں گا

    مجھ کو بیکس نہ سمجھے زمانہ وہ مرا تاجدار آرہا ہے

    یاد میں جس کی رونا عبادت جس کے صدقہ میں ملتی ہے جنت

    جس کو نانا کی امت کا غم ہے آج وہ غم گسار آرہا ہے

    ان کی توصیف میری زباں سے چھوٹے منہ سے بڑی بات ہوگی

    آج شاید مری اس خطا پر اس کی رحمت کو پیار آرہا ہے

    چھوڑ کر ابن حیدر کا دامن کملی والے کو پانا ہے مشکل

    اپنے دل کو ذرا صاف کرلیں آئینے پر غبار آرہا ہے

    جس نے نانا کی امت کی خاطر عمر بھر کی کمائی لٹا دی

    انتہا ہوگئی جس پہ غم کی وہ مرا غم گسار آرہا ہے

    رازؔ وہ ہاشمی شاہزادہ لعل کہیے جسے سیدہ کا

    اپنی نانا کی امت کا لے کر اپنے کاندھے پہ بار آرہا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے