Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوسکی مری زندگی پہ وہ چھا گئے

راز الہ آبادی

مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوسکی مری زندگی پہ وہ چھا گئے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوسکی مری زندگی پہ وہ چھا گئے

    کبھی اشک بن کے رلا گئے کبھی درد بن کے سما گئے

    مجھے دینے آئے تسلیاں مری الجھنوں کو بڑھا گئے

    مرے عہد رفتہ کو چھیڑ کر وہ ہنسی ہنسی میں رلا گئے

    وہ جہانِ عیش و نشاط میں ہمیں جب پناہ نہ مل سکی

    بڑی تیز دھوپ تھی زندگی ترے غم کی چھاؤں میں آگئے

    وہ نگاہ تم نے جو پھیر لی مجھے موت آگئی جیتے جی

    وہ جہاں میں پھر نہ سنبھل سکا جسے تم نظر سے گرا گئے

    سرِ بزم ہم کو یہ خوف تھا کہیں وہ بھی اشک بہا نہ دیں

    کہی داستانِ حیات جب تو کہیں کہیں سے بھُلا گئے

    وہ بہار بن کے چمن میں ہیں وہی خاموشی و سخن میں ہیں

    وہ دل و جگر میں اتر گئے وہ نظر نظر میں سما گئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے