مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوسکی مری زندگی پہ وہ چھا گئے
مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوسکی مری زندگی پہ وہ چھا گئے
کبھی اشک بن کے رلا گئے کبھی درد بن کے سما گئے
مجھے دینے آئے تسلیاں مری الجھنوں کو بڑھا گئے
مرے عہد رفتہ کو چھیڑ کر وہ ہنسی ہنسی میں رلا گئے
وہ جہانِ عیش و نشاط میں ہمیں جب پناہ نہ مل سکی
بڑی تیز دھوپ تھی زندگی ترے غم کی چھاؤں میں آگئے
وہ نگاہ تم نے جو پھیر لی مجھے موت آگئی جیتے جی
وہ جہاں میں پھر نہ سنبھل سکا جسے تم نظر سے گرا گئے
سرِ بزم ہم کو یہ خوف تھا کہیں وہ بھی اشک بہا نہ دیں
کہی داستانِ حیات جب تو کہیں کہیں سے بھُلا گئے
وہ بہار بن کے چمن میں ہیں وہی خاموشی و سخن میں ہیں
وہ دل و جگر میں اتر گئے وہ نظر نظر میں سما گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.