Font by Mehr Nastaliq Web

دامن ضبط ہاتھوں سے چھٹنے لگا یہ محبت میں کیسا مقام آگیا

راز الہ آبادی

دامن ضبط ہاتھوں سے چھٹنے لگا یہ محبت میں کیسا مقام آگیا

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    دامن ضبط ہاتھوں سے چھٹنے لگا یہ محبت میں کیسا مقام آگیا

    اے غمِ عشق کوئی سزا دے مجھے میرے ہونٹوں پہ پھر ان کا نام آگیا

    آج پھر ان کو مجبور ہونا پڑا آج پھر جذبۂ عشق کام آگیا

    ختم ہونے کو تھا زندگی کا سفر وہ تو کہیے کہ ان کا پیام آگیا

    رنگ لا کر رہی میری تشنہ لبی بھول بیٹھے ہیں ساقی بھی ساقی گری

    خود بخود جام سے مئے چھلکنے لگی میکدے میں اگر میرا نام آگیا

    آرزؤں کا دامن بھی پُرنم رہا رات بھر کچھ عجب اپنا عالم رہا

    جب ذرا تیز اس دل کی دھڑکن ہوئی میں یہ سمجھا کہ ان کا پیام آگیا

    برق گرتی رہے یا جلے آشیاں ان کو سیر گلستاں سے فرصت کہاں

    خود نہ آئے کبھی حال غم پوچھنے یا پیام آگیا یا سلام آگیا

    دیر و کعبہ کی دنیا سے نا آشنا میں ادا کر رہا تھا نمازِ وفا

    لطف سجدہ اسی وقت گم ہو گیا جب شعور سجود و قیام آگیا

    چونک اٹھے جس سے دنیا وہ آواز ہوں میں شرابی نہیں میکدہ ساز ہوں

    میں نہیں تھا تو ویران تھا میکدہ میرے آتے ہی گردش میں جام آگیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے