Font by Mehr Nastaliq Web

اس کو خود بڑھ کے منزل پکارے

راز الہ آبادی

اس کو خود بڑھ کے منزل پکارے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    اس کو خود بڑھ کے منزل پکارے

    وہ مسافر جو ہمت نہ ہارے

    عشق کے کھیل تھے کتنے پیارے

    ہم نہ جیتے کبھی وہ نہ ہارے

    کیا یہی ناخدائی ہے تیری

    کوئی دریا میں کوئی کنارے

    تیرا محتاج میں ہی نہیں ہوں

    ساری دنیا میں دامن پسارے

    دن تو رو رو کے ہم نے گزارا

    شب بھی گذرے گی گن گن کے تارے

    آدمی آدمی کا ہے دشمن

    کون مشکل میں کس کو پکارے

    اس طرح یاد آتی ہے ان کی

    جیسے دل پر کوئی تیر مارے

    چاند انگڑائیاں لے رہا ہے

    جھملانے لگے ہیں ستارے

    ساری دنیا کو نیند آگئی ہے

    جاگتے ہیں مگر غم کے مارے

    رازؔ کیا کیا سمجھتا ہے تم کو

    حاصلِ زیست آنکھوں کے تارے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے