اس کو خود بڑھ کے منزل پکارے
اس کو خود بڑھ کے منزل پکارے
وہ مسافر جو ہمت نہ ہارے
عشق کے کھیل تھے کتنے پیارے
ہم نہ جیتے کبھی وہ نہ ہارے
کیا یہی ناخدائی ہے تیری
کوئی دریا میں کوئی کنارے
تیرا محتاج میں ہی نہیں ہوں
ساری دنیا میں دامن پسارے
دن تو رو رو کے ہم نے گزارا
شب بھی گذرے گی گن گن کے تارے
آدمی آدمی کا ہے دشمن
کون مشکل میں کس کو پکارے
اس طرح یاد آتی ہے ان کی
جیسے دل پر کوئی تیر مارے
چاند انگڑائیاں لے رہا ہے
جھملانے لگے ہیں ستارے
ساری دنیا کو نیند آگئی ہے
جاگتے ہیں مگر غم کے مارے
رازؔ کیا کیا سمجھتا ہے تم کو
حاصلِ زیست آنکھوں کے تارے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.