Font by Mehr Nastaliq Web

یادِ مصطفیٰ ایسی بس گئی ہے سینے میں

راز الہ آبادی

یادِ مصطفیٰ ایسی بس گئی ہے سینے میں

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    یادِ مصطفیٰ ایسی بس گئی ہے سینے میں

    جسم ہو کہیں اپنا دل تو ہے مدینے میں

    میرے کملی والے کا گھر تو ہے مدینے میں

    ہاں مگر وہ رہتے ہیں مؤمنوں کے سینے میں

    جب سے مل گیا مجھ کو ناخدا مدینے میں

    لی پناہ طوفاں نے خود مرے سفینے میں

    کون سی زمیں ان کے عاشقوں سے خالی ہے

    ہر جگہ ہیں پروانے شمع ہے مدینے میں

    تو نے پی کتابوں سے میں نے پی نگاہوں سے

    فرق ہے بہت واعظ میرے تیرے پینے میں

    ان گلوں کی خوشبو کا ذکر کیا کروں آقا

    خلد بھی نہاتی ہے آپ کے پسینے میں

    خوف کر نہ دریا کا غم نہ کر تلاطم کا

    نام مصطفیٰ لے کر بیٹھ جا سفینے میں

    رازؔ وہ بلائیں گے یہ یقیں تو ہے لیکن

    جانے کون سے سن میں جانے کس مہینے میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے