یادِ مصطفیٰ ایسی بس گئی ہے سینے میں
یادِ مصطفیٰ ایسی بس گئی ہے سینے میں
جسم ہو کہیں اپنا دل تو ہے مدینے میں
میرے کملی والے کا گھر تو ہے مدینے میں
ہاں مگر وہ رہتے ہیں مؤمنوں کے سینے میں
جب سے مل گیا مجھ کو ناخدا مدینے میں
لی پناہ طوفاں نے خود مرے سفینے میں
کون سی زمیں ان کے عاشقوں سے خالی ہے
ہر جگہ ہیں پروانے شمع ہے مدینے میں
تو نے پی کتابوں سے میں نے پی نگاہوں سے
فرق ہے بہت واعظ میرے تیرے پینے میں
ان گلوں کی خوشبو کا ذکر کیا کروں آقا
خلد بھی نہاتی ہے آپ کے پسینے میں
خوف کر نہ دریا کا غم نہ کر تلاطم کا
نام مصطفیٰ لے کر بیٹھ جا سفینے میں
رازؔ وہ بلائیں گے یہ یقیں تو ہے لیکن
جانے کون سے سن میں جانے کس مہینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.