جام دیکھا نہ کبھی ساغر و مینا دیکھا
جام دیکھا نہ کبھی ساغر و مینا دیکھا
جب بڑھی پیاس تو ساقیٔ مدینہ دیکھا
ہاتھ سینے پر رکھا سوئے مدینہ دیکھا
ہم نے طوفان میں جب اپنا سفینہ دیکھا
جی میں آتا ہے کہ آنکھوں سے لگا لوں ان کو
حاجیو تم نے جن آنکھوں سے مدینہ دیکھا
رخ سے سرکار دوعالم نے نقاب الٹی ہے
ہم نے مہتاب کے ماتھے پہ پسینہ دیکھا
گھر سے اللہ کے محبوب کا گھر دور نہیں
ہم نے کعبے میں کھڑے ہوکے مدینہ دیکھا
ان کے قدموں میں حیات اور اجل دونوں ہیں
ان پہ مرنے میں بڑے لطف کا جینا دیکھا
ہم نے جنت سے بھی طیبہ کو سوا جانا ہے
شیخ نے خلد کی لالچ میں مدینہ دیکھا
رازؔ اس دیکھنے والے کے میں صدقہ جاؤں
اس نے سب دیکھ لیا جس نے مدینہ دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.