مرنے کی دعائیں کرتے ہیں جینے کا سہارا ٹوٹ گیا
مرنے کی دعائیں کرتے ہیں جینے کا سہارا ٹوٹ گیا
جس دن سے محمد کا دامن ہاتھوں سے ہمارا چھوٹ گیا
یہ کیسا زمانہ آیا ہے ہر سمت اندھیرا چھایا ہے
روشن تھی مری دنیا جس سے افسوس وہ تارا ٹوٹ گیا
میں بھی ہوں مسافر طیبہ کا ہمراہ مجھے بھی لے کے چلو
اے قافلے والو رک جاؤ میں راہ میں تنہا چھوٹ گیا
جس وقت چلے ہم طیبہ سے اس وقت کا منظر کیا کہئے
آنکھوں میں امنڈ آئے آنسو ارمان بھرا دل ٹوٹ گیا
جس راہ پہ پہلے چلتے تھے وہ راہ ہم اپنی بھول گئے
اللہ کا دل میں خوف نہیں قرآن سے رشتہ ٹوٹ گیا
درباں ہیں وہاں جبریل امیں طیبہ کی زمیں ہے خلد بریں
جو جا کے وہاں سے لوٹ آیا رازؔ اس کا مقدر پھوٹ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.