Font by Mehr Nastaliq Web

مرنے کی دعائیں کرتے ہیں جینے کا سہارا ٹوٹ گیا

راز الہ آبادی

مرنے کی دعائیں کرتے ہیں جینے کا سہارا ٹوٹ گیا

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    مرنے کی دعائیں کرتے ہیں جینے کا سہارا ٹوٹ گیا

    جس دن سے محمد کا دامن ہاتھوں سے ہمارا چھوٹ گیا

    یہ کیسا زمانہ آیا ہے ہر سمت اندھیرا چھایا ہے

    روشن تھی مری دنیا جس سے افسوس وہ تارا ٹوٹ گیا

    میں بھی ہوں مسافر طیبہ کا ہمراہ مجھے بھی لے کے چلو

    اے قافلے والو رک جاؤ میں راہ میں تنہا چھوٹ گیا

    جس وقت چلے ہم طیبہ سے اس وقت کا منظر کیا کہئے

    آنکھوں میں امنڈ آئے آنسو ارمان بھرا دل ٹوٹ گیا

    جس راہ پہ پہلے چلتے تھے وہ راہ ہم اپنی بھول گئے

    اللہ کا دل میں خوف نہیں قرآن سے رشتہ ٹوٹ گیا

    درباں ہیں وہاں جبریل امیں طیبہ کی زمیں ہے خلد بریں

    جو جا کے وہاں سے لوٹ آیا رازؔ اس کا مقدر پھوٹ گیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے