Font by Mehr Nastaliq Web

اک بار اگر پھر بے پردہ وہ چاند عرب کا ہو جائے

راز الہ آبادی

اک بار اگر پھر بے پردہ وہ چاند عرب کا ہو جائے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    اک بار اگر پھر بے پردہ وہ چاند عرب کا ہو جائے

    مٹ جائے جہاں کی تاریکی دنیا میں اجالا ہو جائے

    ان کے ہی وسیلے سے شاید پوری یہ تمنا ہو جائے

    جب گنبد خضریٰ سامنے ہو دنیا سے کنارا ہو جائے

    کعبہ پہ گماں ہو طیبہ کا طیبہ پہ گماں ہو کعبہ کا

    اے کاش ہماری نظروں کو اک بار یہ دھوکا ہو جائے

    جو یاد نبی میں نکلا ہو اس اشک کی قیمت کیا کہئے

    آنکھوں میں رہے تو موتی ہے ٹپکے تو ستارا ہو جائے

    کشتیٔ شکستہ کو میری ساحل پہ پہنچنا کیا مشکل

    میں نام اگر لے لوں ان کا ہر موج کنارا ہو جائے

    اے رازؔ وسیلے سے ان کے مقبول دعائیں ہوتی ہیں

    ممکن ہی نہیں طیبہ میں کوئی ناکامِ تمنا ہو جائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے