اک بار اگر پھر بے پردہ وہ چاند عرب کا ہو جائے
اک بار اگر پھر بے پردہ وہ چاند عرب کا ہو جائے
مٹ جائے جہاں کی تاریکی دنیا میں اجالا ہو جائے
ان کے ہی وسیلے سے شاید پوری یہ تمنا ہو جائے
جب گنبد خضریٰ سامنے ہو دنیا سے کنارا ہو جائے
کعبہ پہ گماں ہو طیبہ کا طیبہ پہ گماں ہو کعبہ کا
اے کاش ہماری نظروں کو اک بار یہ دھوکا ہو جائے
جو یاد نبی میں نکلا ہو اس اشک کی قیمت کیا کہئے
آنکھوں میں رہے تو موتی ہے ٹپکے تو ستارا ہو جائے
کشتیٔ شکستہ کو میری ساحل پہ پہنچنا کیا مشکل
میں نام اگر لے لوں ان کا ہر موج کنارا ہو جائے
اے رازؔ وسیلے سے ان کے مقبول دعائیں ہوتی ہیں
ممکن ہی نہیں طیبہ میں کوئی ناکامِ تمنا ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.