Font by Mehr Nastaliq Web

میں با ادب کھڑا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

رفیق مغل

میں با ادب کھڑا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

رفیق مغل

MORE BYرفیق مغل

    میں با ادب کھڑا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    بگڑی بنا رہا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    جود و سخا کا قلزم دربارِ مصطفیٰ میں

    میں سن کے آ گیا ہوں دربار مصطفیٰ میں

    کرنیں نکل رہیں ہیں دربار مصطفیٰ میں

    میں بھی چمک اٹھا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    میرا وجود جیسے تحلیل ہو گیا ہے

    میں خود کو ڈھونڈتا ہوں دربار مصطفیٰ میں

    آنسو ندامتوں کے آنکھوں سے بہہ رہے ہیں

    صد شکر رو رہا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    چھم چھم برس رہی ہے برسات رحمتوں کی

    جس سمت دیکھتا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    خورشید بن کر لوٹے بے نور تھے جو تارے

    جن جن سے میں ملا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    ہاں رحمتِ دو عالم سایہ فگن ہے سب پر

    دیکھو میں جھومتا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    یہ خواب دیکھتا ہوں ہر رات ہی مغلؔ میں

    نعتیں سنا رہا ہوں دربارِ مصطفیٰ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے