جسے ہے عشق وہ پایا گیا مدینے میں
کہ وہ کہیں بھی رہے دل رہا مدینے میں
وہی اثر جو دعا سے کبھی گریزاں تھا
دعا کو ڈھونڈتا پایا گیا مدینے میں
زمیں پہ کوئی بھی ذرہ نظر نہیں آتا
بچھی ہے تاروں کی ایسی ردا مدینے میں
وہ شوقِ دید کا عالم عجیب عالم تھا
کہ سایہ جسم سے آگے چلا مدینے میں
دعا کے ہاتھوں سے چہرہ چھپا رہا تھا رفیعؔ
گنہگار تھا کرتا بھی کیا مدینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.