Font by Mehr Nastaliq Web

جسے ہے عشق وہ پایا گیا مدینے میں

رفیع بخش

جسے ہے عشق وہ پایا گیا مدینے میں

رفیع بخش

MORE BYرفیع بخش

    جسے ہے عشق وہ پایا گیا مدینے میں

    کہ وہ کہیں بھی رہے دل رہا مدینے میں

    وہی اثر جو دعا سے کبھی گریزاں تھا

    دعا کو ڈھونڈتا پایا گیا مدینے میں

    زمیں پہ کوئی بھی ذرہ نظر نہیں آتا

    بچھی ہے تاروں کی ایسی ردا مدینے میں

    وہ شوقِ دید کا عالم عجیب عالم تھا

    کہ سایہ جسم سے آگے چلا مدینے میں

    دعا کے ہاتھوں سے چہرہ چھپا رہا تھا رفیعؔ

    گنہگار تھا کرتا بھی کیا مدینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے