Font by Mehr Nastaliq Web

پیشِ حضور کیا ہے ضرورت سوال کی

راغب بدایونی

پیشِ حضور کیا ہے ضرورت سوال کی

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    پیشِ حضور کیا ہے ضرورت سوال کی

    ذروں نے آفتاب سے کب عرضِ حال کی

    تشبیہہ تک محال ہے ان کی مثال کی

    موجود کیا مثال ہو امرِ محال کی

    معمور ہے جہانِ عطائے حضور سے

    یعنی جگہ نہیں کسی دل میں سوال کی

    باتوں میں آب آب ہوئی تاب مہرِ حشر

    چھینٹوں میں آب تھی عرقِ انفغال کی

    کیا پوچھنا حضور کے حسن و جمال کا

    تعریف ہے حضور سے حسن و جمال کی

    راغبؔ حضور کی یہ وصیت ہے آخری

    چھوٹے نہ پیروی کبھی قرآن و آل کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے