ہر شے میں اس کا جلوہ عیاں تھا نہیں نہ تھا
ہر شے میں اس کا جلوہ عیاں تھا نہیں نہ تھا
پھر کیسے ہم کہیں کہ کہاں تھا کہاں نہ تھا
کیا دیکھتے ہی دیکھتے گلشن اجڑ گیا
خالی خزاں کی زد سے کوئی گلستاں نہ تھا
تیرِ نظر سے اس نے جو گھائل بنا دیا
یہ ضبطِ دل تھا میرا کہ محوِ فغاں نہ تھا
افشا کروں نہ تجھ سے تو کس سے کہوں میں حال
تیرے سوا تو کوئی مرا رازداں نہ تھا
قاتل سے پوچھنا ذرا قاتل سے پوچھنا
خنجر پہ خون کا تو نمایاں نشاں نہ تھا
زنداں سے ہو سکی نہ رہائی پسِ فنا
گھیرے ہوئے زمیں کو کہاں آسماں نہ تھا
کعبہ میں بت کدے میں اسے ڈھونڈتا میں کیوں
شہ رگ سے کیا قریب وہ جانِ جہاں نہ تھا
ساقیؔ کو اپنے فخر ہے استاد پر بجا
حضرتِ جلیل سا کوئی اہلِ زباں نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.