Font by Mehr Nastaliq Web

ہر شے میں اس کا جلوہ عیاں تھا نہیں نہ تھا

رائے نرہر راج ساقیؔ

ہر شے میں اس کا جلوہ عیاں تھا نہیں نہ تھا

رائے نرہر راج ساقیؔ

MORE BYرائے نرہر راج ساقیؔ

    ہر شے میں اس کا جلوہ عیاں تھا نہیں نہ تھا

    پھر کیسے ہم کہیں کہ کہاں تھا کہاں نہ تھا

    کیا دیکھتے ہی دیکھتے گلشن اجڑ گیا

    خالی خزاں کی زد سے کوئی گلستاں نہ تھا

    تیرِ نظر سے اس نے جو گھائل بنا دیا

    یہ ضبطِ دل تھا میرا کہ محوِ فغاں نہ تھا

    افشا کروں نہ تجھ سے تو کس سے کہوں میں حال

    تیرے سوا تو کوئی مرا رازداں نہ تھا

    قاتل سے پوچھنا ذرا قاتل سے پوچھنا

    خنجر پہ خون کا تو نمایاں نشاں نہ تھا

    زنداں سے ہو سکی نہ رہائی پسِ فنا

    گھیرے ہوئے زمیں کو کہاں آسماں نہ تھا

    کعبہ میں بت کدے میں اسے ڈھونڈتا میں کیوں

    شہ رگ سے کیا قریب وہ جانِ جہاں نہ تھا

    ساقیؔ کو اپنے فخر ہے استاد پر بجا

    حضرتِ جلیل سا کوئی اہلِ زباں نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے