صاف کر کے دل کے آئینہ کو دیکھا کیجیے
صاف کر کے دل کے آئینہ کو دیکھا کیجیے
جلوۂ عالم کا گھر بیٹھے نظارہ کیجیے
مست آنکھوں کے مجھے ساغر پلایا کیجیے
ہوش کو گم کیجئے بیخود بنایا کیجیے
اس کا جلوہ ذرے ذرے میں نظر آئے مجھے
ایسی خواہش کیجیے ایسی تمنا کیجیے
حسن کی سرکار کا یہ کون سا دستور ہے
آپ ہنستے ہی رہیں سب کو رلایا کیجیے
کیا سے کیا ہو جاؤں گا میں کیا سے کیا بن جاؤں گا
اک ذرا چشم عنایت سے اشارہ کیجیے
دردِ دل تم نے دیا اس کی دوا میں کیا کروں
لاج رکھیے عشق کی مجھ کو نہ رسوا کیجیے
اس سے بڑھ کر دور اندیشی کوئی ساقیؔ نہیں
زندگی کو اپنی وقفِ جام و مینا کیجیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.