Font by Mehr Nastaliq Web

صاف کر کے دل کے آئینہ کو دیکھا کیجیے

رائے نرہر راج ساقیؔ

صاف کر کے دل کے آئینہ کو دیکھا کیجیے

رائے نرہر راج ساقیؔ

MORE BYرائے نرہر راج ساقیؔ

    صاف کر کے دل کے آئینہ کو دیکھا کیجیے

    جلوۂ عالم کا گھر بیٹھے نظارہ کیجیے

    مست آنکھوں کے مجھے ساغر پلایا کیجیے

    ہوش کو گم کیجئے بیخود بنایا کیجیے

    اس کا جلوہ ذرے ذرے میں نظر آئے مجھے

    ایسی خواہش کیجیے ایسی تمنا کیجیے

    حسن کی سرکار کا یہ کون سا دستور ہے

    آپ ہنستے ہی رہیں سب کو رلایا کیجیے

    کیا سے کیا ہو جاؤں گا میں کیا سے کیا بن جاؤں گا

    اک ذرا چشم عنایت سے اشارہ کیجیے

    دردِ دل تم نے دیا اس کی دوا میں کیا کروں

    لاج رکھیے عشق کی مجھ کو نہ رسوا کیجیے

    اس سے بڑھ کر دور اندیشی کوئی ساقیؔ نہیں

    زندگی کو اپنی وقفِ جام و مینا کیجیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے