ترانۂ روحِ دو جہاں ہیں، نوائے جاں ہیں امیر خسرو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
ترانۂ روحِ دو جہاں ہیں، نوائے جاں ہیں امیر خسرو
حیات خود نغمہ خواں ہے جن کی، وہ نغمہ خواں ہیں امیر خسرو
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
اندھیری رتیاں نہ کیوں ہوں روشن کہ ضوفشاں ہیں امیر خسرو
وہ ہندی الاصل فارسی گو وہ برج بھاشا وہ کہہ مکرنی
مگر جو کہہ کر کبھی نہ مکری وہی زباں ہیں امیر خسرو
وہ شاعر و عارف و قلندر، وہ خسروی شان وہ فقیری
نہ کیوں ہوں جان جہاں کہ آخر جہانِ جاں ہیں امیر خسرو
نظامِ دین و نظامِ دنیا کا ان پہ فیضان ہے کہ اب تک
نظامِ عالم ہے پیر کہنہ مگر جواں ہیں امیر خسرو
جمالِ اجمیر و حسنِ دہلی کہ جس پہ ہندوستاں ہے نازاں
اسی جمال ابد نما کے قصیدہ خواں ہیں امیر خسرو
رئیسؔ ان کا دوامِ عظمت نہ کیوں ہو عظمتِ دوامی
دوام خود ترجمہ ہے جس کا وہ ترجماں ہیں امیر خسرو
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 21)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.