نہ چمن کی ہے مجھے جستجو نہ تلاشِ فصلِ بہار ہے
نہ چمن کی ہے مجھے جستجو نہ تلاشِ فصلِ بہار ہے
مجھے اس جگہ کا نشاں بتا جہاں دل کا میرے قرار ہے
چلی ایسی ایسی یہاں ہوا کہ چراغ دل بھی بجھا رہا
ہر اک آرزو ہوئی سرداب نہ چڑھاؤ ہے نہ اتار ہے
پڑی فتنہ ساماں پہ جوں نظر گیا ہاتھ سے وہیں یہ جگر
یہ جو بیخودی سی ہے چارہ گر، اسی اک نظر کا خمار ہے
رخِ زندگی مرا موڑ کر، مجھے بیچ دریا میں چھوڑ کر
سبھی عہد و پیماں کو توڑ کر مرا یار کب سے فرار ہے
مری جان پر ہی بن آئی ہے، تو نے ایسی آگ لگائی ہے
مرے یار تیری دہائی ہے، مرا سب تجھی پہ نثار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.