Font by Mehr Nastaliq Web

فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے

رضا سرسوی

فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے

رضا سرسوی

MORE BYرضا سرسوی

    فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے

    علی والے جہاں بیٹھے وہیں جنت بنا بیٹھے

    فراز دار ہو مقتل ہو زندان ہو کہ صحرا ہو

    جلی عشق علی کی شمع اور پروانے آ بیٹھے

    کوئی موسم کوئی بھی وقت کوئی بھی علاقہ ہو

    جہاں ذکر علی چھیڑا وہاں دیوانے آ بیٹھے

    علی والوں کا مرنا بھی کوئی مرنے میں مرنا ہے

    چلے اپنے مکاں سے اور علی کے در پہ جا بیٹھے

    ادھر رخصت کیا سب نے ادھر آئے علی لینے

    یہاں سب رو رہے تھے ہم وہاں محفل سجا بیٹھے

    علی والوں کے مرنے کا ہے بس اتنا سا افسانہ

    کہ جیسے کوئی مسجد سے عزا خانے میں جا بیٹھے

    ابھی میں قبر میں لیٹا ہی تھا اک نور سا پھیلا

    میری بالیں پہ خود آ کر علی مرتضیٰ بیٹھے

    ادب کے ساتھ میں نے سر رکھا مولیٰ کے قدموں پہ

    کہا مجھ سے سناؤ بو ذر و سلمان بھی آ بیٹھے

    علی کے ذکر کی محفل سجی شہر خاموشاں میں

    تھے جتنے باوفا وہ سب کہ سب محفل میں آ بیٹھے

    علم عباس کا آیا زیارت کو ملک اٹھے

    علم کے سایہ میں جتنے تھے ماتم دار آ بیٹھے

    صدارت کے لیے تشریف لے آئے ابو طالب

    چچا کے پاس خود آ کر محمد مصطفیٰ بیٹھے

    یہ کون آیا کہ استقبال کو سب انبیا اٹھے

    نہ بیٹھے گا کوئی تب تک نہ جب تک فاطمہ بیٹھے

    نظامت کے لیے مولیٰ نے خود میثم کو بلوایا

    وہ لہجہ تھا کہ سب دانتوں تلے انگلی دبا بیٹھے

    علی والوں کے نعروں نے رضاؔ ایسا سماں باندھا

    کہ خود مولیٰ بھی اپنے نام کا نعرا لگا بیٹھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے