سیاہی گھول دی ہے یا نبی شب کی ہواؤں میں
سیاہی گھول دی ہے یا نبی شب کی ہواؤں میں
اٹھا ہے شور پھر امن و اماں کی فاختاؤں میں
دھنک اسلوبِ مدحت کی ودیعت کی گئی مجھ کو
سخن بانٹے حروفِ نو غزل کی اپسراؤں میں
ستارے رقص کرتے آرہے ہیں آسمانوں سے
چراغاں ہی چراغاں ہے مدینے کی فضاؤں میں
ثنائے مصطفیٰ وردِ زباں روزِ ازل سے ہے
دلوں کی دھڑکنیں سمٹی رہیں میری صداؤں میں
برستا ہے خنک پانی ادب سے شہر طیبہ پر
خدا کی شان لاکھوں پھول ہوتے ہیں گھٹاؤں میں
کتابِ جان و دل لے کر ہوا پہنچے مدینے میں
تخیل کے پرندے منتظر ہوں گے فضاؤں میں
مری کلکِ ثنا کو ان کی چوکھٹ کا ملے موسم
درودِ پاک کی خوشبو ہے میری سب دعاؤں میں
مَیں طشتِ دیدہ و دل میں سجا کر زخم لایا ہوں
قلم کے رتجگے رہتے ہیں میری التجاؤں میں
دہائی دے رہی ہے آپ کی امت سرِ محفل
لہو کا آخری قطرہ بھی شامل ہے نواؤں میں
اگرچہ کل بھی دامانِ طلب بھر بھر کے اٹھے تھے
کرم کی آج بھی تقسیم ہو آقا گداؤں میں
سفینے کو ڈبونا ہے کسی گمنام ساحل پر
عجب منصوبہ بندی ہو رہی ہے ناخداؤں میں
خدا بننے کا فتنہ جن کے ذہنوں میں سمایا ہے
غبارِ کفر پھیلا ہے ریاضؔ ان کی اناؤں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.