سرکار ہے چہرے پہ مرے گردِ سفر بھی
سرکار ہے چہرے پہ مرے گردِ سفر بھی
کشکول میں بھر لایا ہوں اشکوں کے گہر بھی
صحرا میں مسافر پہ کئے رکھا ہے سایہ
سرشار محبت میں ہیں رستے کے شجر بھی
آقا مری تہذیب کہیں کھوئی ہوئی ہے
روپوش ہیں صدیوں سے مرے شمس و قمر بھی
تھامے نہ اگر آپ کی توصیف کا پرچم
کس کام کا سرکار مرا دستِ ہنر بھی
زخمی ہیں مرے پاؤں مگر چلنا پڑے گا
کانٹوں سے بھری رہتی ہے ہر راہ گذر بھی
پھر گردِ مفادات میں گم ہیں مری آنکھیں
پھر چشمِ عنایت مرے آقا ہو ادھر بھی
میں جھوٹ کو سینے سے لگانے کا ہوں مجرم
کب باقی رہا میری دعاؤں میں اثر بھی
دیوارِ شبستاں پہ اندھیرے ہیں مسلط
محروم اجالوں سے ہے دامانِ سحر بھی
آقا جی، ریاضؔ آپ کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے
کھو جائے مدینے میں کہیں اس کی نظر بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.