Font by Mehr Nastaliq Web

سرکار ہے چہرے پہ مرے گردِ سفر بھی

ریاض حسین چودھری

سرکار ہے چہرے پہ مرے گردِ سفر بھی

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    سرکار ہے چہرے پہ مرے گردِ سفر بھی

    کشکول میں بھر لایا ہوں اشکوں کے گہر بھی

    صحرا میں مسافر پہ کئے رکھا ہے سایہ

    سرشار محبت میں ہیں رستے کے شجر بھی

    آقا مری تہذیب کہیں کھوئی ہوئی ہے

    روپوش ہیں صدیوں سے مرے شمس و قمر بھی

    تھامے نہ اگر آپ کی توصیف کا پرچم

    کس کام کا سرکار مرا دستِ ہنر بھی

    زخمی ہیں مرے پاؤں مگر چلنا پڑے گا

    کانٹوں سے بھری رہتی ہے ہر راہ گذر بھی

    پھر گردِ مفادات میں گم ہیں مری آنکھیں

    پھر چشمِ عنایت مرے آقا ہو ادھر بھی

    میں جھوٹ کو سینے سے لگانے کا ہوں مجرم

    کب باقی رہا میری دعاؤں میں اثر بھی

    دیوارِ شبستاں پہ اندھیرے ہیں مسلط

    محروم اجالوں سے ہے دامانِ سحر بھی

    آقا جی، ریاضؔ آپ کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے

    کھو جائے مدینے میں کہیں اس کی نظر بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے