گنبدِ خضرا کا ہے عکسِ منور روبرو
گنبدِ خضرا کا ہے عکسِ منور روبرو
اس لیے رہتی ہے چشمِ تر ہمیشہ باوضو
میں اندھیروں کے کسی بھی نام سے واقف نہیں
نعتِ ختم المرسلیں ہے روشنی کی آبجو
کون رکھتا ہے بھرم میری غریبی کا حضور
نعت کرتی ہے مرے چاکِ گریباں کو رفو
ہر گھڑی رہتے ہیں مصروفِ ثنا دیوار و در
ان گنت سجدوں سے ہے آباد شہرِ آرزو
حشر کی گرمی میں مرجھاتی نہیں شاخِ قلم
گل کو رکھتی ہے سدا تازہ ہوائے مشک بو
ان کے قدموں کا ہے دھوون بہتر از آبِ حیات
ان کے قدموں کا تصدق ہے جہانِ رنگ و بو
میرے بچوں کو عطا ہو پرچمِ خیبر شکن
ہر گلی کے موڑ پر ہے خیمہ زن میرا عدو
مانگ ہے اجڑی ہوئی میرے گلستاں کی، حضور
بانجھ پن کی زد میں ہے مدت سے ہر شاخِ نمو
آرزوئے نکہتِ اسمِ محمد میں ریاضؔ
خوشبوؤں کے قافلے پھرتے رہیں گے کو بکو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.