Font by Mehr Nastaliq Web

درودِ پاک ہونٹوں پر سجا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

ریاض حسین چودھری

درودِ پاک ہونٹوں پر سجا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    درودِ پاک ہونٹوں پر سجا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    میں مانندِ حروفِ التجا چوکھٹ پہ آیا ہوں

    کھڑے ہیں ہر قدم پر لشکری ابلیس زادوں کے

    بڑی مشکل سے محبوبِ خدا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    حضوری کی بشارت دے رہی ہیں سسکیاں میری

    سنا نعتِ پیمبر اے صبا! چوکھٹ پہ آیا ہوں

    میری آنکھیں برستی ہی رہی ہیں راہِ طیبہ میں

    لیے لب پر درودوں کی صدا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    برہنہ سر، برہنہ پا ہوں تنہا میں بیاباں میں

    ملے مجھ کو خنک آب و ہوا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    دھنک کے رنگ بھی گرد و غبارِ راہ میں گم ہیں

    پرندوں سے ہوئی خالی فضا چوکھٹ پہ آیا ہوں

    ابھی سے خون میں تر ہے مرے کل کا ہر اک لمحہ

    وطن کے سر پہ ہے دستِ قضا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    مرے ہر کھیت پر ہو گنبدِ خضرا کی ہریالی

    ثنا گوئی کا مجھ کو دیں صلہ، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    بہت دھندلا چکے ہیں آئنے میرے مقدر کے

    کریں کچھ پاؤں کا دھوون عطا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    میں اک زخمی پرندے کی طرح اڑتا رہا شب بھر

    میں لینے آپ سے خاکِ شفا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    کوئی بھی فیصلہ کرنے کی جرأت ہی نہیں رکھتے

    تذبذب میں ہیں میرے رہنما، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    ریاضِؔ خوشنوا کی لاج رکھ لیں شہرِ مدحت میں

    کرم اے پیکرِ جود و سخا، چوکھٹ پہ آیا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے