Font by Mehr Nastaliq Web

میں کتابِ عشق کا بابِ ثنا ہوں، یانبی

ریاض حسین چودھری

میں کتابِ عشق کا بابِ ثنا ہوں، یانبی

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    میں کتابِ عشق کا بابِ ثنا ہوں، یانبی

    آج بھی مانندِ حرفِ التجا ہوں، یانبی

    کیا رسائی ہو فراتِ عشق کے زم زم تلک

    کربلا سی کربلا سی کربلا ہوں، یانبی

    اپنی ہی تفہیم کر پایا نہیں برسوں میں میں

    خود ہی اپنی ذات میں الجھا ہوا ہوں، یانبی

    میں مسائل سے چھڑا پایا نہیں دامن ابھی

    کن مصائب کے الاؤ میں گرا ہوں، یانبی

    ضبط کا دامن مرے ہاتھوں میں آتا ہی نہیں

    مَیں درِ اقدس پہ آکر رو پڑا ہوں، یانبی

    لوگ مجھ کو ڈھونڈتے ہیں مصر کے بازار میں

    شہرِ طیبہ کی فضاؤں میں چھپا ہوں، یانبی

    آج بھی کشکول میں سکے کرم کے دیجیے

    آپ کے در کا ہمیشہ سے گدا ہوں، یانبی

    لمحہ لمحہ ہے مرا اوجِ ثریا پر قیام

    آپ کے قدموں سے وابستہ رہا ہوں، یانبی

    میں لحد میں پھول مدحت کے سجاتا تھا ریاضؔ

    حوضِ کوثر پہ بھی مصروفِ ثنا ہوں، یانبی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے